ایرانتازہ ترین

خلیج میں بڑے حملے، ایرانی ڈرونز نے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیجی خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں متعدد ممالک نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں تیل، بجلی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت ڈرون حملوں کو روکنے کی کارروائی کی۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل انہی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔ اسی دوران ابوظہبی میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا، جہاں گرنے والے ملبے کے باعث آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

کویت میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں ایک اہم تیل کمپلیکس میں ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ کویتی حکام کے مطابق ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں واقع وزارتوں کے کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر دفاتر کو عارضی طور پر بند کر کے ریموٹ ورک کا اعلان کیا۔

مزید برآں، بجلی پیدا کرنے اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث توانائی کے نظام کو نقصان پہنچا اور کچھ یونٹس بند ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس طرح کے حملے جاری رہے تو توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

بحرین میں بھی ایک تنصیب میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، جسے سول ڈیفنس ٹیمیں کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں۔ جبکہ سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے ممکنہ نقصان کو روکا گیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی مفادات اور مخصوص صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، تاہم خلیجی ممالک کے مطابق حملوں کا اثر شہری اور سویلین انفراسٹرکچر پر بھی پڑا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ تنازع اب صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button