ایرانتازہ ترین

امریکی بحری بیڑے کو بڑا خطرہ: ایران کا چین سے خطرناک ‘سپرسونک میزائل’ خریدنے کا فیصلہ

(تازہ حالات رپورٹ )

ایران نے چین سے سپرسانک بحری جہازوں کو تباہ کرنے والے میزائل حاصل کرنا شروع کردیے – CM-302 اینٹی شپ میزائل امریکی بحری جہازوں کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں- 290 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل یہ چینی میزائل 2200 کلوگرام وزنی ہوتا ہے جس میں 250 کلوگرام کا تباہ کن وار ہیڈ امریکی جہازوں کو تباہ کرسکتا ہے – ماخ 3.3 سپیڈ کے حامل یہ میزائل امریکی بحری دفاعی نظام کو چکمہ دے سکتے ہیں-

چینی میزائل CM-302 کی خصوصیات اور امریکی بحریہ کے لیے خطرہ

مذاکرات سے باخبر 6 مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چینی ساختہ CM-302 میزائلوں کی ڈیل تقریباً مکمل ہے، تاہم ابھی ترسیل کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔

رینج اور رفتار: یہ جدید میزائل تقریباً 290 کلومیٹر تک سمندری اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسٹیلتھ اور دفاعی چیلنج: ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سمندر کی سطح کے بالکل قریب اور آواز کی رفتار سے تیز (Supersonic) پرواز کرتے ہیں۔ اس لو-فلائنگ (Low-flying) صلاحیت کی وجہ سے دشمن کے بحری جہازوں کے ریڈار اور ڈیفنس سسٹمز کے لیے انہیں ٹریک کرنا اور مار گرانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس جدید میزائل سسٹم کی شمولیت سے ایران کی میری ٹائم اسٹرائیک صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہو گا، جو خطے (خاص طور پر خلیج فارس) میں موجود امریکی بحری جہازوں اور طیارہ بردار بیڑوں کے لیے ایک براہ راست اور سنگین خطرہ ثابت ہوگا۔

معاہدے کا پس منظر اور مذاکرات میں تیزی

رپورٹ کے مطابق، ان میزائلوں کی خریداری کے لیے بیجنگ اور تہران کے درمیان بات چیت کا آغاز کم از کم دو سال قبل ہوا تھا۔ تاہم، گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ حالیہ کشیدگی کے بعد ان مذاکرات میں غیر معمولی تیزی لائی گئی۔

جیسے جیسے مذاکرات آگے بڑھے، اعلیٰ سطحی ایرانی عسکری اور حکومتی حکام نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے چین کے اہم دورے کیے۔ اسی تناظر میں ایرانی وزارت خارجہ نے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ "تہران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط فوجی اور سیکیورٹی معاہدات موجود ہیں اور موجودہ کشیدہ حالات میں ان کا استعمال کرنے کا یہ بالکل مناسب وقت ہے۔”

عالمی منظر نامے پر اثرات (تجزیاتی جائزہ)

عالمی امور کے مبصرین کے مطابق، یہ ممکنہ معاہدہ محض ایک فوجی ڈیل نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن کا ثبوت ہے۔

آبنائے ہرمز پر گرفت: دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ان میزائلوں کی تعیناتی سے ایران اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ پر اپنا دفاعی کنٹرول مزید مضبوط کر لے گا۔

چین اور ایران کا اسٹریٹجک گٹھ جوڑ: یہ ڈیل چین اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مدتی اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کا ایک اور عملی مظاہرہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ خطے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کی عسکری صلاحیتیں بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button