(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ عالمی سیاست میں امریکا کی روایتی بالادستی بتدریج کم ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اب نئے جغرافیائی و سفارتی کردار کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار اس تبدیلی کی واضح مثال ہے۔
ملیحہ لودھی کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان توازن تبدیل ہو رہا ہے اور اب دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر زیادہ متوازن یا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں علاقائی ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں کہ وہ سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کریں۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے حالیہ عرصے میں مختلف عالمی معاملات میں ایک “پل” کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست رابطہ مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کا یہ کردار نہ صرف خطے میں اس کی اہمیت بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کردار کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو متوازن اور محتاط خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی۔
ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی پوزیشن مضبوط کریں اور عالمی معاملات میں مؤثر کردار ادا کریں۔