
تہران / دوحہ / مسقط: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل قطر اور عمان کے اہم دورے کیے ہیں، جہاں انہوں نے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں علاقائی صورتحال اور جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
بدھ کے روز دوحہ میں لاریجانی نے قطر کے امیر اور وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے امیری دیوان میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران۔امریکا مذاکرات میں پیش رفت پر گفتگو کی۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کے بعد جوہری معاملے سے متعلق حالیہ سفارتی سرگرمیوں پر ایک علیحدہ اور اہم نشست بھی منعقد ہوئی۔ لاریجانی نے قطر میں قیام کے دوران حماس کے بعض رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔
دوحہ سے قبل لاریجانی نے عمان کا مختصر دورہ کیا، جو گزشتہ ایک دہائی سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مسقط میں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات کی، جسے ایرانی وفد کے قریبی ذرائع نے “مثبت اور تعمیری” قرار دیا۔ اس کے علاوہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور 6 فروری کو مسقط میں ہونے والے مذاکراتی دور کے نتائج پر گفتگو کی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ مذاکرات کو “اچھا آغاز” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے اپنی پوزیشن اور سرخ لکیریں واضح طور پر بیان کر دی ہیں، تاہم واشنگٹن کے ماضی کے رویے کے باعث تہران محتاط ہے۔
لاریجانی کا یہ سفارتی دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے خطے میں عسکری موجودگی بڑھانے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ مسقط میں قیام کے دوران لاریجانی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو “دانشمندی کا مظاہرہ” کرنا چاہیے اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو جوہری مذاکرات کے فریم ورک پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
اسی دوران لاریجانی نے یمن کی انصاراللہ تحریک کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام سے بھی ملاقات کی۔ عبدالسلام نے ایران کی انقلاب کی 47ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران بیرونی دباؤ کے باوجود مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اور عمان کے بیک ٹو بیک دورے اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران علاقائی سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکراتی عمل کو مستحکم بنانا چاہتا ہے۔ ماضی میں یورپی ممالک ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے، تاہم حالیہ برسوں میں عمان اور قطر اس سلسلے میں زیادہ فعال دکھائی دے رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں سفارتکاری آگے نہیں بڑھ سکتی، تاہم اگر ایران کی سلامتی اور بنیادی مفادات کا احترام کیا جائے تو معاہدے کا امکان موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں مذاکرات کا اگلا دور اس بات کا تعین کرے گا کہ خطہ کشیدگی سے نکل کر کسی نئے سمجھوتے کی طرف بڑھتا ہے یا نہیں۔



