امریکاتازہ ترین

خلیج میں بڑے پیمانے پر حملے، کئی ممالک نے میزائل اور ڈرون ناکام بنا دیے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران خلیجی خطہ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عراق سمیت کئی ممالک میں بیک وقت سیکیورٹی اور عسکری واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

کویتی فوج کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے دوران شہریوں کو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔ اسی دوران دبئی میں ایک کویتی آئل ٹینکر پر حملہ بھی رپورٹ ہوا، جس میں جہاز کو نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سعودی عرب میں بھی فضائی دفاعی نظام متحرک رہا، جہاں حکام کے مطابق ریاض اور مشرقی علاقوں کی جانب آنے والے کم از کم 8 بیلسٹک میزائل تباہ کیے گئے۔ الخرج کے علاقے میں ڈرون کے ملبے گرنے سے چند گھروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

متحدہ عرب امارات میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں دبئی اور شارجہ میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں محدود نقصانات اور چند افراد کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور عوام کو افواہوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

بحرین میں سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ نیٹ ورک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ حزب اللہ سے روابط رکھتا تھا اور ملک میں جاسوسی اور تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب عراق میں بھی صورتحال غیر مستحکم رہی، جہاں مسلح گروہوں نے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعض مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ عراقی ذرائع کے مطابق بغداد کے قریب امریکی فوجی لاجسٹک بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم از کم سات عرب ممالک کو ہزاروں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ شہری اور توانائی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اس سطح کی ہم وقت کشیدگی ایک بڑی علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف ممالک براہ راست یا بالواسطہ اس تنازع میں شامل ہو چکے ہیں۔

عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاہم زمینی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی الحال تناؤ میں کمی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button