
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )تہران — مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کئی علاقوں میں شدید آگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے بعض تیل کے ذخائر اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد متعدد مقامات سے بلند شعلے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائیاں ایران کے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے ذخائر اور ایندھن کے مراکز کسی بھی ملک کی فوجی اور اقتصادی صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ایسے اہداف کو نشانہ بنانے سے جنگی صلاحیت پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو مزید سخت کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی فوجی طاقت اس وقت مکمل طور پر متحرک ہے اور خطے میں صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بعض علاقوں میں امدادی اور فائر بریگیڈ ٹیمیں آگ بجھانے اور نقصان کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین توانائی کے مراکز میں سے ایک ہے، اس لیے اس خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے عالمی اقتصادی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اور سفارتی حلقے کشیدگی کم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں۔



