اسرائیلتازہ ترین

اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد دوہری شہریت رکھنے والے اہلکار، میڈیا رپورٹ

اسرائیلی اخبار Yedioth Ahronoth نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج (IDF) میں خدمات انجام دینے والے 50,632 اہلکار ایسے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے ساتھ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار باضابطہ فوجی ڈیٹا کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں اور اس میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں جو اسرائیل کے ساتھ دوہری یا بعض صورتوں میں کثیر شہریت رکھتے ہیں۔

کن ممالک کے شہری شامل ہیں؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد امریکا، فرانس، روس، برطانیہ، جرمنی، یوکرین اور دیگر یورپی و لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم ہر ملک کے لیے تفصیلی اعداد و شمار الگ الگ درج کیے گئے ہیں۔

اسرائیل میں دوہری شہریت قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے، اور بیرونِ ملک سے آنے والے افراد، خاص طور پر وہ جو یہودی نژاد ہوں، اسرائیلی شہریت حاصل کرنے کے بعد فوجی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

پس منظر اور اہمیت

اسرائیل میں لازمی فوجی سروس کا نظام موجود ہے، جس کے تحت بیشتر اسرائیلی شہریوں کو فوجی خدمات انجام دینا ہوتی ہیں۔ ایسے میں بیرونِ ملک سے آئے ہوئے یا دوہری شہریت رکھنے والے افراد بھی اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی فوج میں بڑی تعداد میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کا عالمی یہودی برادری کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار ہے۔ دوسری جانب ناقدین اس پہلو کو قانونی اور سفارتی تناظر میں بھی دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب علاقائی کشیدگی یا جنگی حالات پیدا ہوتے ہیں۔

قانونی اور سفارتی پہلو

کچھ ممالک کے قوانین اپنے شہریوں کو غیر ملکی فوج میں خدمات انجام دینے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں اس حوالے سے پابندیاں موجود ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ ہر ملک کے داخلی قوانین کے مطابق مختلف قانونی سوالات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے اس رپورٹ پر تفصیلی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم یہ اعداد و شمار ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہے ہیں کہ جدید جنگی حالات میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کا کردار اور قانونی حیثیت کیا ہونی چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button