
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے متعدد میزائل حملے کیے گئے، جبکہ یمن سے بھی ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ایران نے مختلف اوقات میں میزائلوں کی لہروں کے ذریعے حملے کیے، جن کا دفاعی نظام کے ذریعے مقابلہ کیا گیا۔ اسی دوران یمن سے آنے والے دو ڈرونز کو بھی فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ یہ دوسرا موقع ہے جب یمن سے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے بعد تنازع مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ یمن میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے حالیہ دنوں میں کھل کر اس تنازع میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک بڑی علاقائی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مشرق وسطیٰ کے مزید ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے دارالحکومت تہران میں مبینہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں، اور ایران کی نئی قیادت کو "معقول” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی کی جا رہی ہے تاکہ صورتحال پر قابو رکھا جا سکے۔
اسی تناظر میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں بامعنی بات چیت کا آغاز متوقع ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک اس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایسے میں سفارتی کوششوں کی کامیابی ہی خطے میں امن کی بحالی کی امید پیدا کر سکتی ہے۔



