
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے جہاں تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں اب ایک اور اہم مگر کم نظر آنے والا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے—ہیلیم گیس کی قلت۔ ماہرین کے مطابق ایران اور خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں قطر سے قدرتی گیس کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ہیلیم کی سپلائی بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
ہیلیم ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے، جو عام طور پر غبارے بھرنے کے لیے جانی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ جدید ٹیکنالوجی اور طب کے لیے نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) چِپس کی تیاری میں استعمال ہونے والی حساس مشینری کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہیلیم کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایم آر آئی (MRI) اسکینرز میں بھی یہی گیس بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر، جو دنیا کی تقریباً ایک تہائی ہیلیم پیداوار فراہم کرتا ہے، اس وقت جنگی صورتحال کے باعث اپنی برآمدات معمول کے مطابق جاری نہیں رکھ پا رہا۔ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں موجود تنصیبات کو حالیہ حملوں سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی خریداروں کو پہلے ہی خبردار کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہیلیم کی فراہمی محدود ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ بعض کمپنیوں نے اپنے صارفین کو اضافی سرچارجز اور سپلائی میں تاخیر سے آگاہ بھی کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صحت کے شعبے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایم آر آئی مشینوں کی کارکردگی متاثر ہونے سے تشخیصی عمل سست پڑ سکتا ہے، جو مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، مصنوعی ذہانت کی صنعت، جو پہلے ہی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس بحران کے باعث سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔ چِپ مینوفیکچرنگ میں رکاوٹیں آنے سے بڑے ٹیک اداروں کے منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دنیا میں توانائی کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتی گیسوں کی سپلائی بھی کتنی اہم ہو چکی ہے۔ اگر متبادل ذرائع یا ذخائر جلد فعال نہ کیے گئے تو عالمی معیشت کے کئی اہم شعبے دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران جنگ کے اثرات اب صرف جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی، صحت اور عالمی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کرنے لگے ہیں، جس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔



