
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن / یروشلم — امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بعض بائبلی ماہرین اور مسیحی مبصرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری واقعات قدیم مذہبی پیش گوئیوں سے مطابقت رکھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان مبصرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کو بائبل میں بیان کردہ “آخری زمانے” کی نشانیوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران میں ہونے والے حملوں اور اعلیٰ سطحی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بعض مذہبی تجزیہ کاروں نے انجیل کے عہدِ جدید اور عبرانی صحائف کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بیان کردہ جنگوں اور عالمی ہنگامہ خیزی کی پیش گوئیاں موجودہ حالات سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہیں۔
مسیحی تعلیمات میں حضرت عیسیٰؑ سے منسوب ایک بیان، جو انجیل متی (باب 24:6-7) میں موجود ہے، اکثر اس بحث میں حوالہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ لوگ جنگوں اور جنگوں کی افواہیں سنیں گے اور قومیں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔ بعض مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی اس بیان سے مماثلت رکھتی ہے۔
اسی طرح حزقی ایل کی کتاب کے ایک حصے میں “فارس” کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، جسے بعض مفسرین موجودہ ایران سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش گوئی میں ایسے اتحاد کا ذکر ہے جو مستقبل میں اسرائیل کے خلاف کھڑا ہوگا۔

یہ مذہبی تشریحات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ و اس کے اتحادی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو خطے کی سکیورٹی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں استحکام اور اپنے اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب شام کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس دمشق کے ایک چرچ پر ہونے والے خودکش حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق اس حملے کے پیچھے شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک ایک حملہ آور ملوث تھا۔ شام پہلے ہی طویل خانہ جنگی اور سیاسی بحران کے باعث شدید تباہی کا سامنا کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی پیش گوئیوں کی ایسی تشریحات نئی نہیں ہیں اور تاریخ میں مختلف جنگوں اور عالمی بحرانوں کے دوران بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ تنازعات کو سمجھنے کے لیے سیاسی، معاشی اور جغرافیائی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے میں مذہبی اور سیاسی بیانیوں کا امتزاج اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔



