تازہ ترینمشرق وسطی

مشرقِ وسطیٰ جنگ سے عالمی معیشت کو خطرہ، تیل 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )دوحہ: قطر کے وزیر توانائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطری وزیر توانائی نے کہا کہ خلیجی ممالک دنیا کو تیل اور گیس فراہم کرنے والے اہم ترین مراکز ہیں، اس لیے اگر جنگ کے باعث توانائی کی پیداوار یا ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو خلیج کے بڑے توانائی برآمد کرنے والے ممالک چند ہفتوں میں پیداوار محدود یا بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید جھٹکا دے سکتی ہے اور عالمی معیشت کو سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا کی تیل و گیس سپلائی کا ایک بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری اثرات پیدا کر سکتی ہے۔

توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف ایندھن بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور صنعتی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی بڑھنے اور معاشی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے اور کئی ممالک متبادل توانائی ذرائع اور سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button