
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اتوار کی صبح اسرائیل پر ایران اور حزب اللہ کی جانب سے ایک بڑا اور بیک وقت حملہ کیا گیا، جس میں میزائلوں اور ڈرونز کی متعدد لہریں اسرائیل کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغی گئیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سب سے بڑا مشترکہ حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق رات گئے اور علی الصبح کئی شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے جبکہ مختلف علاقوں میں راکٹوں کے ٹکڑے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی اور چند افراد زخمی بھی ہوئے۔ حملوں کا آغاز آدھی رات کے بعد ہوا جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی طرف میزائل فائر کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم اور دیگر دفاعی نظاموں نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج کے ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 90 فیصد میزائلوں کو روک لیا گیا تاہم باقی میزائلوں اور ان کے ملبے سے کئی علاقوں میں نقصان پہنچا۔
اسرائیلی چینلز کے مطابق تل ابیب کے قریب حولون اور رملہ سمیت کئی شہروں میں راکٹوں کے ٹکڑے گرنے سے آگ لگ گئی جبکہ کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ بعض میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈ استعمال کیے گئے جس سے نقصان کا خدشہ بڑھ گیا۔

ادھر مغربی کنارے میں الجزیرہ کے نمائندے کے مطابق حملوں میں ایران کے ساتھ ساتھ حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی سرحد کے قریب کئی اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
صبح کے اوقات میں ایک اور میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے مرکزی علاقوں اور تل ابیب میں دوبارہ سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حالیہ گھنٹوں میں کم از کم 15 میزائل حملوں کا ریکارڈ کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں عدم استحکام کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں اور ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایرانی کارروائیاں صرف ان فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو ایران کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ امریکہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی نئی کھیپ روانہ کر دی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کو سپلائی فراہم کرنے کے لیے ایک فضائی پل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
لبنان کے محاذ پر حزب اللہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجی اہداف پر حملے کیے اور بعض مقامات پر براہِ راست جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تنظیم کے مطابق اس دوران میزائلوں، ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے یہ مشترکہ حملہ خطے میں جاری جنگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔



