میونخ سکیورٹی کانفرنس: زیلنسکی کا سوال — کیا دنیا روسی جارحیت کے لیے تیار ہے؟

(تازہ حالات رپورٹ )
جرمنی کے شہر میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس میں یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلینسکی
نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا: "کیا یورپ اور مغرب روسی جارحیت اور جدید جنگی حکمتِ عملی کے لیے واقعی تیار ہیں؟”
اپنے خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ روس صرف روایتی فوجی طاقت کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ ڈرونز، سائبر حملوں، میزائل ٹیکنالوجی اور معلوماتی جنگ جیسے جدید ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہا ہے۔ ان کے بقول، یہ جنگ صرف یوکرین کی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کا امتحان ہے۔
جدید جنگ کی نوعیت
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ مستقبل کی جنگیں ٹینکوں اور توپوں سے زیادہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر اور ہائبرڈ حکمت عملی پر مبنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپ نے بروقت دفاعی تیاری نہ کی تو روسی دباؤ دوسرے ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے یورپی یونین اور نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں، یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کریں اور روس کے خلاف پابندیوں کو مزید مؤثر بنائیں۔
یورپی ردعمل
کانفرنس میں موجود یورپی رہنماؤں نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے کہا کہ یورپ کو اپنی دفاعی خودمختاری مضبوط کرنی ہوگی۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ روس کے خلاف طویل المدتی حکمت عملی ضروری ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بھی کہا کہ ایک مضبوط یورپ ہی نیٹو کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
امریکا کا مؤقف
امریکی نمائندوں نے بھی یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا، تاہم واشنگٹن میں جاری سیاسی مباحث اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں امداد کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔ امریکی صدر Donald Trump پہلے ہی یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تیز تر سفارتی اقدامات پر زور دے چکے ہیں۔
بدلتی عالمی صف بندیاں
کانفرنس میں چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی موجودگی نے یہ واضح کیا کہ یوکرین جنگ عالمی طاقتوں کی مسابقت کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق روس-یوکرین تنازع اب صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا امتحان ہے۔
اہم سوال باقی
زیلنسکی کے خطاب نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یورپ واقعی ایک نئے دور کی جنگی حقیقت کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہونے والی ہے اور اس کے اثرات عالمی سیاست پر گہرے ہو رہے ہیں۔



