ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں امریکی فوج کو بڑا نقصان، زخمیوں کی تعداد 200 کے قریب

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ زخمی اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 200 تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ان میں سے زیادہ تر فوجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور بڑی تعداد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکی ہے۔

سینٹکام کے بیان کے مطابق زخمی ہونے والے اہلکار مختلف ممالک میں تعینات تھے، جن میں کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، عراق اور اسرائیل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کا دائرہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

دوسری جانب جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جو ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں کے نتیجے میں پیش آئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے نہ صرف فوجی اہداف بلکہ سفارتی مراکز، ہوٹلوں اور ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اب تک ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ جنگ کے دوران جدید MQ-9 ریپر ڈرونز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ڈرونز طویل دورانیے تک پرواز کر کے نگرانی اور حملہ دونوں صلاحیتیں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا نقصان اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زخمی فوجیوں کی بڑھتی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ اب ایک وسیع اور مسلسل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کو بڑھتے جانی و مالی نقصانات کا سامنا ہے، جہاں زخمی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اس تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button