تازہ ترینعالمی خبریں

قطر میں امریکی اڈے پر پیٹریاٹ میزائل متحرک لانچرز میں منتقل، ایران کشیدگی کے دوران عسکری تیاریوں میں اضافہ

دوحہ / واشنگٹن: سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا نے قطر کے العدید ایئر بیس پر تعینات اپنے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو روایتی نیم مستقل لانچنگ اسٹیشنز کے بجائے موبائل ٹرک لانچرز پر منتقل کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا، تاکہ میزائل نظام کو تیزی سے منتقل یا دوبارہ تعینات کیا جا سکے۔

العُدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے فرانزک تجزیہ کار ولیم گُڈہنڈ کے مطابق فروری کے آغاز میں پیٹریاٹ میزائل سسٹمز کو M983 ہیوی ایکسپینڈڈ موبلٹی ٹیکٹیکل ٹرکس (HEMTT) پر نصب دیکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دفاعی نظام کو فوری طور پر کسی متبادل مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے یا ممکنہ ایرانی حملے کی صورت میں تیزی سے دفاعی پوزیشن اختیار کی جا سکتی ہے۔

An aerial overhead view of "Ops Town” at at Al Udeid Air Base (AB), Al Rayyan Province, Qatar (QAT), taken from a US Air Force (USAF) KC-135 Stratotanker during Operation IRAQI FREEDOM.

خطے میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ

جنوری کے مقابلے میں فروری کی تصاویر میں خطے کے مختلف امریکی اڈوں پر طیاروں اور عسکری سازوسامان کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ العدید بیس پر RC-135 جاسوس طیارہ، C-130 اور C-17 ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ بڑی تعداد میں KC-135 اسٹریٹو ٹینکرز بھی موجود دکھائی دیے۔ اسی طرح اردن کے موافق سلتی ایئر بیس، سعودی عرب کے پرنس سلطان بیس، عمان، بحرین اور بحر ہند میں ڈیاگو گارشیا کے اڈے پر بھی سرگرمیوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔

An F-16 Fighting Falcon, assigned to the 64th Aggressor Squadron, conducts air-to-air refueling with a KC-135 Stratotanker during U.S. Air Force Weapons School Integration at Nellis Air Force Base, Nev., Nov. 28, 2022. The U.S. Air Force Weapons School trains tactical experts and leaders to control and exploit air, space and cyber on behalf of the joint force. (U.S. Air Force photo by Senior Airman Zachary Rufus)

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال کے تنازع کے بعد ایران نے اپنے میزائل ذخائر دوبارہ مکمل کر لیے ہیں، جبکہ تہران، کرمانشاہ اور دیگر علاقوں میں زیرِ زمین میزائل تنصیبات فعال ہیں۔

سفارت کاری اور دباؤ کی حکمت عملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں، تاہم بیک وقت سفارتی رابطے بھی جاری ہیں تاکہ کسی ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق دفاعی نظام کو موبائل لانچرز پر منتقل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن خطے میں بڑھتے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور تیز رفتار ردِعمل کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل پیٹریاٹ سسٹم نہ صرف دفاعی لچک فراہم کرتا ہے بلکہ دشمن کے لیے ہدف کی درست نشاندہی بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے خدشات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

فی الحال پینٹاگون کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہونے والی سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی عسکری صورت حال کی عکاسی کرتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button