ایرانتازہ ترین

ایران میں نظام تبدیلی کے لیے زمینی حملہ ضروری؟ نیتن یاہو کا بڑا بیان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اشارہ دیا ہے کہ ایران میں موجودہ نظام کو ختم کرنے کے لیے صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے زمینی کارروائی بھی درکار ہو سکتی ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

ایک حالیہ بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ “فضا سے انقلاب نہیں لایا جا سکتا”، اور اگر ایران کے نظام کو مکمل طور پر کمزور یا ختم کرنا مقصود ہو تو کسی نہ کسی مرحلے پر زمینی آپریشن ناگزیر ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس ممکنہ حکمت عملی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کو گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں کمزور ترین پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود صرف فضائی حملوں سے مکمل تبدیلی ممکن نہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بڑے زمینی آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا، جس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے فرق واضح ہو گیا ہے۔

ابتدائی طور پر امریکی قیادت نے ایران میں نظام کی تبدیلی کو ممکنہ ہدف قرار دیا تھا، تاہم اب بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مکمل نظام کی تبدیلی کے بجائے محدود مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے، جیسے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنا۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے ایران کے توانائی کے اہم مراکز، خصوصاً گیس فیلڈز پر حملوں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو نمایاں کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ مزید ایسے حملوں سے گریز کرے، جس کے بعد نیتن یاہو نے مستقبل میں احتیاط برتنے کا عندیہ دیا۔

خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، جبکہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع میں ممکنہ طور پر براہِ راست شامل ہونے کے اشارے دے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو وہ بھی ایران کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمینی جنگ کا آپشن اختیار کیا گیا تو یہ تنازع نہ صرف طویل ہو سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔ زمینی کارروائی نہایت پیچیدہ، مہنگی اور جانی نقصان کے لحاظ سے خطرناک ہوتی ہے، اس لیے بیشتر عالمی طاقتیں اس سے گریز کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

مجموعی طور پر موجودہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں عسکری حکمت عملیوں میں بڑے فیصلے کیے جا سکتے ہیں، اور آنے والے دن اس تنازع کی سمت کا تعین کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button