
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو مختصر دورے پر امریکا روانہ ہو رہے ہیں، جہاں بدھ کے روز ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات متوقع ہے۔ اسرائیلی حکام اس ملاقات کو ایک اہم “اسٹریٹجی شیپنگ سیشن” قرار دے رہے ہیں، جس میں نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر بات ہوگی بلکہ یہ بھی زیرِ غور آئے گا کہ اگر سفارتی عمل ناکام ہوتا ہے تو آئندہ لائحۂ عمل کیا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے ہمراہ ان کے فوجی سیکریٹری میجر جنرل رومن گوفمان اور قومی سلامتی کونسل کے قائم مقام سربراہ گل رائخ بھی ہوں گے۔ ملاقات میں ممکنہ امریکی فوجی آپشنز، علاقائی سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
امریکی مؤقف اور سفارتی فضا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر مذاکرات میں کوئی واضح ریڈ لائن مقرر نہیں، تاہم صدر ٹرمپ ایک جامع اور بامعنی معاہدے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی حتمی حدود طے کی جائیں گی تو وہ صدر ٹرمپ خود طے کریں گے، اور ایک مضبوط معاہدہ سب کے مفاد میں ہوگا۔

ادھر امریکا نے خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز میں ایرانی حدود سے دور رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، جسے احتیاطی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کا مؤقف اور پس منظر
ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں کمی پر غور کر سکتے ہیں، تاہم اس کے بدلے تمام پابندیوں کے مکمل خاتمے کی شرط عائد کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری اور رہبرِ اعلیٰ کے مشیر علی لاریجانی کے عمان پہنچنے کی بھی توقع ہے، جہاں ممکنہ معاہدے پر مزید مشاورت ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے عمان میں امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جارڈ کشنر نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام سے ملاقات کی تھی۔ اس ابتدائی نشست کو مثبت قرار دیا گیا، تاہم امریکی حکام اب توقع رکھتے ہیں کہ اگلی ملاقات میں ایرانی وفد جوہری معاملے پر ٹھوس تجاویز اور لچک کے ساتھ آئے گا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کو تشویش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات صرف امریکی نمائندوں اور ایرانی حکام تک محدود نہیں، بلکہ ترکی، قطر، سعودی عرب اور مصر سمیت کئی علاقائی ممالک بھی اس عمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو خدشات لاحق ہیں۔

ادھر رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیجی خطے میں بڑے حملوں کی مشقیں کی ہیں، جبکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اس ہفتے واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تازہ ترین انٹیلی جنس بریفنگ دیں گے۔ اسرائیلی اندازے کے مطابق اگر امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی ہوئی تو اس سے ایران کے اندر حکومت مخالف دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔



