اسرائیلتازہ ترین

نیتن یاہو کی نئی حکمت عملی، مسلسل جنگ اور پیشگی حملوں پر زور

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu کی نئی سیکیورٹی حکمت عملی تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے، جس میں ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ، اور خطرات کو سرحدوں سے دور ختم کرنے کی پالیسی مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا نظریہ اس سوچ پر مبنی ہے کہ اسرائیل اب صرف دفاعی حکمت عملی یا “روک تھام” (deterrence) پر انحصار نہیں کرے گا، بلکہ ممکنہ خطرات کو پہلے ہی مرحلے پر نشانہ بنائے گا۔ اس میں ایران، حزب اللہ اور دیگر علاقائی گروہوں کے خلاف مسلسل اور پیشگی کارروائیاں شامل ہیں۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے نہ صرف ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملے کیے بلکہ لبنان اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھی اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل سرحدوں کے اندر رہ کر دفاع کرنے کے بجائے “بفر زونز” قائم کر کے خطرات کو اپنے علاقوں سے دور دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ حکمت عملی دراصل ایک وسیع تر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں اسرائیل اب “خطرہ ختم ہونے تک لڑائی جاری رکھنے” کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف فوری خطرات کو ختم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے کی صلاحیت کو بھی جڑ سے اکھاڑنا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی میں تین بڑے عناصر شامل ہیں:

  • پیشگی حملے (Pre-emptive strikes)
  • دشمن کی عسکری صلاحیت کا مکمل خاتمہ
  • سرحدوں سے باہر سیکیورٹی کنٹرول قائم کرنا

اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ ماضی میں دشمنوں کو طاقت جمع کرنے کا موقع دینا ایک بڑی غلطی تھی، جس کے باعث بڑے حملے ممکن ہوئے۔ اسی لیے اب حکمت عملی کو جارحانہ انداز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تاکہ خطرات کو ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کیا جا سکے۔

تاہم ناقدین اس پالیسی کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ یہ ایک طویل اور وسیع جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوں گے، خاص طور پر توانائی، معیشت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں۔

موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ براہ راست تصادم، لبنان میں کارروائیاں اور دیگر محاذوں پر کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں روایتی سفارتکاری کے بجائے طاقت کا استعمال مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کا یہ نیا سیکیورٹی نظریہ نہ صرف اسرائیل کی دفاعی پالیسی کو بدل رہا ہے بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، اور آنے والے برسوں میں اس کے نتائج مزید واضح ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button