ایرانتازہ ترین

دبئی ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ: پروازیں عارضی طور پر معطل خطے میں خطرے کی گھنٹی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈرون حملے نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حکام کے مطابق پیر کی صبح ایک ایندھن کے ٹینک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایئرپورٹ کے ایک حصے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔

عینی شاہدین کی جانب سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود پروازوں کی آمد و رفت کچھ وقت کے لیے روک دی گئی۔ تاہم فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور چند گھنٹوں بعد فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق، اسی روز مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششیں بھی کی گئیں، جنہیں بڑی حد تک ناکام بنا دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، اور خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات کی زد میں آ رہے ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ، جو دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، پر اس نوعیت کا حملہ عالمی فضائی سفر کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ راستہ "دشمنوں کے لیے بند” ہے، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب براہِ راست جنگی میدان سے نکل کر اہم انفراسٹرکچر اور شہری علاقوں تک پھیل رہا ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button