امریکاتازہ ترین

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اسلام سے متعلق متنازع خیالات پر نئی بحث

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اسلام اور عالمی سیاست سے متعلق خیالات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ان کے مختلف بیانات اور تحریروں میں اسلام، عالمی طاقتوں اور مغربی دنیا کے مستقبل سے متعلق ایسے نظریات پیش کیے گئے ہیں جن پر مبصرین اور ماہرین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہیگستھ اپنی بعض کتابوں اور تقاریر میں یہ مؤقف پیش کرتے رہے ہیں کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی نظام بھی ہے، جس کا اثر دنیا کے مختلف خطوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی دنیا اور مغربی نظام کے درمیان نظریاتی اختلافات طویل عرصے سے موجود رہے ہیں اور ان اختلافات نے عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔

ہیگستھ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ عالمی سیاست اور سکیورٹی کے تناظر میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔

اپنی تحریروں میں انہوں نے تاریخ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسلام نے ماضی میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور یورپ کے بعض حصوں میں اہم تاریخی اثرات مرتب کیے۔ تاہم تاریخ دانوں کے مطابق اس موضوع پر مختلف زاویہ ہائے نظر موجود ہیں اور تاریخی واقعات کو مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیگستھ نے مغربی ممالک میں آبادیاتی تبدیلیوں اور ہجرت کے مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحث مغربی سیاست میں کافی عرصے سے جاری ہے اور اس پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی رائے مختلف ہے۔

پیٹ ہیگستھ امریکی حکومت میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اور ان کے زیر نگرانی لاکھوں فوجی اہلکار اور وسیع دفاعی بجٹ آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کے عہدوں پر موجود شخصیات کے خیالات اکثر عالمی سیاسی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں مذہب، سیاست اور سکیورٹی سے متعلق بیانات حساس نوعیت اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے ایسے موضوعات پر گفتگو اکثر بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button