
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں ایک نئی پیشگوئی سامنے آئی ہے جس کے مطابق آنے والے دنوں میں اس تنازع کا دوسرا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے جس میں زمینی فوجی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی۔ متحدہ عرب امارات کے صحافی خالد ممتاز نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ جنگ جلد ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جو طویل اور زیادہ پیچیدہ ہو گا۔
ان کے مطابق ممکنہ منصوبے کے تحت ایران کے اندر زمینی آپریشنز شروع کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اہم جوہری تنصیبات واقع ہیں، جیسے اصفہان، فردو اور اراک۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں ساحلی شہروں پر قبضے کی کوششیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
صحافی کے مطابق ممکنہ حکمت عملی میں بندر عباس جیسے اہم بندرگاہی شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ شہر ایران کی بحری اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں واقع ایرانی جزائر خارگ، قشم اور کیش کو بھی ممکنہ اہداف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس مرحلے میں ایران کے اندرونی علاقوں میں بعض گروہوں اور اپوزیشن عناصر کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے داخلی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے ایران کے اہم تیل بردار جزیرے خارگ آئلینڈ پر کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال تیل کی بنیادی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا، لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہیں۔ اس جزیرے پر موجود بڑے ذخیرہ گاہیں اور لوڈنگ ٹرمینلز ایک وقت میں کئی بڑے آئل ٹینکرز کو بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ واقعی زمینی مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو یہ تنازع مزید طویل اور خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ زمینی کارروائیاں عام طور پر زیادہ وسائل، وقت اور انسانی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ کے اثرات پہلے ہی عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سکیورٹی پر پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بڑے فوجی مرحلے کے آغاز سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔



