امریکاتازہ ترین

جنگ میں نیا موڑ، امریکی ڈرونز اور ریڈار سسٹمز کو نقصان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکہ کو نہ صرف فوجی بلکہ مالی سطح پر بھی بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں جدید اور مہنگے فوجی نظام متاثر ہونے کی اطلاعات نے اس تنازع کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فضائی اور نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے، جن میں بغیر پائلٹ طیارے (ڈرونز)، فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور جدید ریڈار و نگرانی کے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ یہ سسٹمز امریکی فوجی آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا نقصان جنگی صلاحیت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے نظام نہ صرف انتہائی مہنگے ہوتے ہیں بلکہ ان کی مرمت یا متبادل فراہم کرنا بھی وقت طلب اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے جاری رہنے سے امریکی دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگی ماحول میں ڈرونز اور نگرانی کے نظام کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے، کیونکہ یہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، اہداف کی نشاندہی کرنے اور فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں ان نظاموں کا متاثر ہونا میدانِ جنگ میں برتری کو متاثر کر سکتا ہے۔

ادھر کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہ جدید فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی کو چیلنج کر رہے ہیں، جس سے امریکی فوج کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں فریق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے لڑائی مزید پیچیدہ اور مہنگی ہو گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے فوجی نظام کو محفوظ بنانے اور نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ اسی رفتار سے جاری رہی تو اس کے اثرات نہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکی معیشت اور عالمی دفاعی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دن اس تنازع کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button