
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے 38ویں دن خلیجی ممالک نے ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے ایک نئے سلسلے کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھیں۔
ابوظہبی میں ایک صنعتی علاقے میں گرنے والے ملبے کے باعث ایک غیر ملکی شہری زخمی ہوا، جبکہ فجیرہ اور خورفکان میں بھی ڈرون حملوں کے نتیجے میں عمارتوں اور بندرگاہی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق کئی مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جنہیں بعد میں قابو میں کر لیا گیا۔
کویت نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں توانائی کے منصوبے، آئل کمپلیکس اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس سے مالی نقصان اور مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

قطر اور سعودی عرب نے بھی حالیہ گھنٹوں میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحرین نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں درجنوں ڈرونز کو مار گرانے کی تصدیق کی۔ بحرینی حکام کے مطابق ایک صنعتی مقام پر آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا۔
خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام مسلسل ہائی الرٹ پر ہیں اور شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اڈے ہیں۔
تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کے اثرات شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے تک بھی پہنچ رہے ہیں، جس سے خطے میں انسانی اور معاشی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس نئی لہر نے واضح کر دیا ہے کہ تنازعہ اب ایک وسیع علاقائی شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں متعدد ممالک براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی نازک ہے اور اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پورا خطہ ایک بڑے اور طویل تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑیں گے۔



