
(تازہ حالات رپورٹ )
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران سے بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں ایک غیر معمولی مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت “انتہائی پیچیدہ اور چیلنجنگ دنوں” سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال غیر یقینی ہے اور “کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا”، تاہم اسرائیل ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی میڈیا میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی جانب سے لاحق “وجودی خطرات” کو پیچھے دھکیلا جا چکا ہے اور اسرائیل کی سکیورٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی “تاریخی طور پر مضبوط” قرار دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعاون کا ذکر کیا۔

اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے نیتن یاہو کے خطاب کے فوراً بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ انہیں 7 اکتوبر کے واقعات کی بنیاد پر یاد رکھے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی کی پالیسیوں، خصوصاً حماس سے متعلق فیصلوں نے اسرائیل کو نقصان پہنچایا۔ تاہم لاپید نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی کی نوبت آتی ہے تو وہ قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
لاپید نے ایران کی تیل تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو ہدف بنانے کی تجویز بھی دی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بڑے اقدام سے پہلے بین الاقوامی سطح پر حمایت اور سفارتی حکمتِ عملی ضروری ہے۔

دوسری جانب کنیسٹ میں ہونے والی بحث کا عنوان “اندرون و بیرونِ ملک سکیورٹی کنٹرول کا فقدان” تھا، جس میں اسرائیل کے اندر بڑھتے جرائم، بالخصوص عرب برادری میں ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات پر بھی شدید تنقید کی گئی۔ بعض ارکان نے قومی سلامتی کے وزیر کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور حکومتی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا۔
ادھر اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایران، حزب اللہ اور یمن کے حوثی گروپ سے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر ہنگامی مشاورت کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو ایران اپنے اتحادی گروپوں کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے درمیان سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جسے بعض حلقے کشیدگی کم کرنے کا “آخری موقع” قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری لفظی اور عسکری تناؤ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ سفارتی اور عسکری اقدامات پر مرکوز ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل ایسا سخت اور غیرمعمولی جواب دے گا جس کا تہران تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت اس کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوگی۔



