شمالی کوریا کاربن فائبر ICBM سے متعدد وار ہیڈ لے جانے کی تیاری میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
جنوبی کوریا کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا ایک جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) تیار کر رہا ہے، جس میں کاربن فائبر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ اس کی رینج میں اضافہ اور زیادہ طاقتور حملوں کی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے حال ہی میں ایک سالڈ فیول راکٹ انجن کا تجربہ کیا، جسے ماہرین اس کے نئے ICBM پروگرام کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اس انجن کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور بتایا جا رہا ہے، جو نہ صرف میزائل کی رفتار بڑھا سکتا ہے بلکہ اسے زیادہ وزن اٹھانے کے قابل بھی بناتا ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس بریفنگ کے بعد قانون سازوں نے میڈیا کو بتایا کہ نئے میزائل کا ڈھانچہ کاربن فائبر سے تیار کیا جا رہا ہے، جو ہلکا ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مضبوط بھی ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے میزائل ایک سے زیادہ وار ہیڈز لے جانے کے قابل ہو سکتا ہے، جس سے اس کی تباہ کن صلاحیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر شمالی کوریا اس ٹیکنالوجی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ ایک ہی میزائل کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا، جسے جدید جنگی اصطلاح میں "ملٹیپل وار ہیڈ ڈلیوری” کہا جاتا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے طویل فاصلے کے میزائل تجربات عموماً اس انداز میں کیے ہیں کہ وہ مکمل رینج کے بجائے زاویہ دار (lofted trajectory) راستہ اختیار کرتے ہیں تاکہ میزائل سمندر میں گرے اور براہ راست کسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے خود اس حالیہ تجربے کا مشاہدہ کیا اور اسے ملک کی اسٹریٹیجک طاقت میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا پہلے ہی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاربن فائبر میزائل ٹیکنالوجی اور طاقتور انجن کی تیاری خطے اور عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف میزائل کی رینج بڑھے گی بلکہ اس کی دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں شمالی کوریا مسلسل نئی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں عالمی امن اور استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



