
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کے لیے شمالی کوریا کی ٹیکنالوجی اور اسلحہ استعمال کر رہا ہے، جس نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی امور کے ماہرین نے کہا کہ ایران کے میزائل ذخیرے کا ایک بڑا حصہ یا تو براہ راست شمالی کوریا سے خریدا گیا ہے یا پھر اس کی تیاری میں شمالی کورین ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ماضی میں شمالی کوریا سے “مسودان” طرز کے میزائل حاصل کیے تھے، جبکہ اس کے دیگر میزائل سسٹمز جیسے “قیام” اور “شہاب-3” بھی مبینہ طور پر شمالی کورین ڈیزائنز سے متاثر یا ان کی نقل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کی مدد سے ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے طویل فاصلے تک میزائل داغنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ایک واقعے میں بحر ہند میں واقع ایک اہم فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ ان میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے روک لیا گیا، تاہم اس واقعے نے ایران کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور شمالی کوریا کے درمیان یہ تعاون ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا حصہ ہے، جس میں ٹیکنالوجی، پرزہ جات اور وسائل کا تبادلہ شامل ہو سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران ان پروگرامز کے بدلے نقد رقم اور تیل فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف موجودہ میزائل سسٹمز کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے آخری مراحل میں بھی داخل ہو چکا ہے، جو مستقبل میں خطے کے لیے مزید چیلنج بن سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں میزائل ٹیکنالوجی کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں بین الاقوامی تعاون اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کس قدر اہم ہو چکا ہے، اور یہی عوامل مستقبل کے تنازعات کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔



