بین الاقوامی سطح پر جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئی رپورٹ اور تبصرے نے ممکنہ عالمی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ معروف مبصر سینک یوگر کے بیان کے مطابق چین اور پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر یہ سخت مؤقف سامنے آیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کیے گئے تو اس کا جواب اسرائیل کے خلاف ایٹمی کارروائی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ سرکاری تصدیق محدود ہے، تاہم اس نوعیت کے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
سینک یوگر نے اپنے بیان میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ غیر متوازن تعلقات نے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ عالمی قوانین اور سفارتی اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے تنازعات کو مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیز اقدام عالمی سطح پر بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطے بڑھانے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے، اور عالمی امن کے لیے دانشمندانہ فیصلوں کی کتنی ضرورت ہے۔