(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد جہاں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، وہیں اس صورتحال نے امریکی تیل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے غیر معمولی مالی مواقع بھی پیدا کر دیے۔
تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران توانائی شعبے کے اعلیٰ افسران نے تقریباً 1.4 ارب ڈالر مالیت کے شیئرز فروخت کیے۔ یہ فروخت ایسے وقت میں ہوئی جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی اور بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق یہ لین دین مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں میں ہوا، جن میں آف شور ڈرلنگ، ریفائننگ اور قدرتی گیس برآمد کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ خاص طور پر بڑی امریکی کمپنیاں جیسے شیورون، کونوکو فلپس اور دیگر ادارے اس رجحان سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس نے قیمتوں کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اضافے سے نہ صرف کمپنیوں کی آمدنی بڑھی بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ ہوا۔
تاہم ناقدین اس صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جنگی حالات سے مالی فائدہ اٹھانا اخلاقی طور پر درست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر مارکیٹ میں شفافیت اور نگرانی مزید ضروری ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد کا مؤقف ہے کہ شیئرز کی خرید و فروخت ایک معمول کا عمل ہے اور اس کا تعلق مارکیٹ کی صورتحال سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص سیاسی یا عسکری فیصلے سے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور عام صارفین پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی توانائی کمپنیوں کے منافع اور سرمایہ کاری کے رجحانات بھی عالمی سیاسی حالات سے جڑے رہیں گے۔