
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت میں دبئی کے ساحل کے قریب ایک بڑے کویتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور عالمی تیل منڈیوں میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ٹینکر خلیج فارس سے نکلنے کے انتظار میں دیگر جہازوں کے ساتھ لنگر انداز تھا۔ واقعہ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے فوراً بعد پیش آیا، جس میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
متاثرہ جہاز ایک بڑا کروڈ آئل ٹینکر تھا جو کویت کے پرچم تلے رجسٹرڈ تھا اور تیل سے بھرا ہوا تھا۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر آگ پر قابو پانے اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حالیہ جنگ کے دوران بحری اہداف پر ہونے والے بڑے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف خلیجی سیکیورٹی کو متاثر کیا بلکہ عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی قسم کا حملہ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی وجہ سے اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحری جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو زیادہ خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب خلیجی ممالک اور بین الاقوامی طاقتیں اس واقعے کے بعد اپنی بحری سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ اہم تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی بات چیت جاری ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف زمینی یا فضائی حدود تک محدود نہیں رہی بلکہ بحری راستے بھی اس تنازع کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹس پر مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔



