ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں شدت، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، عالمی منڈیوں میں بے چینی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

لندن/نیویارک: ایران جنگ میں مزید شدت کے خدشات کے درمیان عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں جنگ کے مزید پھیلنے کے اشارے ہیں۔ اس پیش رفت نے فوری جنگ بندی کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کی جڑ آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ کئی ہفتوں سے اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، جبکہ اسے مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن بھی سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض بیانات میں جنگ کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن عملی طور پر صورتحال اب بھی غیر واضح ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی غیر یقینی صورتحال عالمی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہی ہے۔

مزید برآں، تیل کی قیمتوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے مہنگائی کے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔

ایشیائی ممالک بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ بھارت ایران کے ساتھ محفوظ راستوں پر بات چیت کر رہا ہے، جبکہ چین اپنی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب جاپان سمیت بعض اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں بحری تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران نے عالمی سطح پر اتحاد کے فقدان کو بھی بے نقاب کیا ہے، جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق الگ الگ حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایسے میں توانائی کی سپلائی اور عالمی تجارت دونوں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ ایک عالمی معاشی چیلنج بن چکی ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button