
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی کے خدشات کے باعث سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران سے جڑے تنازع کے پھیلنے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں پر خطرات بڑھنے سے عالمی توانائی مارکیٹس میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری بڑھا دی، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج کا خطہ دنیا کی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز متاثر ہوتی ہے تو یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ادھر توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑے گا۔
کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ اضافہ وقتی بھی ہو سکتا ہے، تاہم اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو توانائی کی منڈی میں عدم استحکام برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اسی دوران مختلف ممالک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور متبادل سپلائی کے ذرائع پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر یہ پیش رفت نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔



