تازہ ترینمشرق وسطی

عمان کا دوٹوک اعلان: اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائیں گے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ کسی مجوزہ “پیس کونسل” کا حصہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے، چاہے خطے میں حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو جائیں۔

مقامی اخبارات کے مدیران سے گفتگو کے دوران البوسعیدی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا مقصد صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایران کو کمزور کرنا، خطے کی نئی ترتیب بنانا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو تیز کرنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا جیسے بڑے مقاصد بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق اس تنازع کے پس منظر میں ایک وسیع تر علاقائی منصوبہ کارفرما ہے جس کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقائی قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ چلنے سے اس کی پالیسیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

عمانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے تھے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اس بات پر آمادہ تھا کہ وہ ایسا جوہری مواد تیار نہیں کرے گا جو ایٹم بم بنانے کے قابل ہو اور موجودہ افزودہ مواد کو ناقابلِ واپسی ایندھن میں تبدیل کرنے کے لیے تیار تھا۔

البوسعیدی نے خبردار کیا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے خطے میں قائم قانونی اور سفارتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق عمان اب بھی جنگ کے خاتمے اور سفارتکاری کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عمان کسی بھی ایسی فوجی کارروائی میں تعاون نہیں کرے گا جو جنگ کو بڑھاوا دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو وہ صرف دفاعی مقاصد اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہوگی۔

عمانی وزیر خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک، اردن، عراق اور لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی خودمختاری اور بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک کے متوازن مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔

البوسعیدی کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی سپلائی چین میں خلل اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود خطے کے ممالک کو بدترین ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے آخر میں خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی سلامتی کے تصورات کا ازسرنو جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button