اسرائیلتازہ ترین

عمان کا اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہ لانے کا اعلان:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

فلسطینی مزاحمتی تنظیم Hamas نے سلطنت عمان کے اس اعلان کو سراہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے کسی عمل میں شامل نہیں ہوگا۔

حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ Oman کا یہ مؤقف قابلِ قدر ہے اور یہ خطے میں جاری سیاسی صورتحال اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے ایک واضح اور اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم کے مطابق بعض علاقائی منصوبوں کے ذریعے فلسطینی مسئلے کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ ردعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا جو عمان کے وزیر خارجہ Badr Albusaidi نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی کسی ایسے فورم میں شامل ہوگا جس کا مقصد خطے میں جبری سفارتی تبدیلیاں لانا ہو۔

مسقط میں مقامی اخبارات کے مدیران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی جنگ کے پس منظر میں کئی بڑے جغرافیائی اور سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ خطے میں جاری کشیدگی کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا، علاقائی توازن کو تبدیل کرنا اور سفارتی تعلقات کی نئی سمت طے کرنا بھی مقاصد میں شامل ہو سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ عمان اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی حل اور مذاکرات کو ہی مسئلے کا بہترین راستہ سمجھتا ہے۔

مبصرین کے مطابق عمان ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کے کردار کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک عمان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم پل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگرچہ خطے میں سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم عمان کی جانب سے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی پالیسی مشرقِ وسطیٰ میں مستقبل کے مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button