
(تازہ حالات رپورٹ )مشرق وسطیٰ اور قفقاز کے حساس خطے میں جاری کشیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں کے درمیان ایک انتہائی اہم سفارتی و عسکری پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے پڑوسی ملک آرمینیا نے تہران کی اعلیٰ عسکری قیادت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی اڈے کسی بھی صورت میں امریکہ کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی نائب صدر کا دورہ اور آرمینیا کا ہنگامی ردعمل تفصیلات کے مطابق، آرمینیا کی جانب سے یہ ہنگامی اور غیر معمولی دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکی نائب صدر نے آرمینیا کا دورہ کیا تھا، جس کے ساتھ ہی خطے میں مبینہ امریکی بحری اور عسکری سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں کہ شاید واشنگٹن تہران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے آرمینیائی سرزمین کو بطور بیس استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، آرمینیائی قیادت نے فوری طور پر تہران پہنچ کر ان تمام افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایرانی آرمی چیف سے ملاقات اور اہم اعلانات تہران میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں آرمینیا کے وزیر دفاع نے ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر آرمینیائی وزیر دفاع نے پورے اعتماد کے ساتھ ایرانی قیادت کو باور کرایا کہ آرمینیا کی حدود سے ایران کی قومی سلامتی کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

اس اہم ملاقات کے دوران، ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے ایران کی دفاعی طاقت، تیاریوں اور ملکی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایران کی عسکری تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک انتہائی سخت پیغام دیا اور کہا: "دشمن ہمارے ‘مقدس دفاع’ کے محض 12 دنوں کے اندر ہی جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گیا تھا۔” دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، میجر جنرل موسوی کا یہ بیان دراصل امریکہ اور خطے میں موجود ان کے اتحادیوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی منظر نامے پر اس کے اثرات (تجزیاتی جائزہ) عالمی خبر رساں اداروں اور دفاعی ماہرین کے مطابق، آرمینیا کا یہ قدم تہران اور یریوان کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں آرمینیا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو کسی بھی عالمی دباؤ یا امریکی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گا۔
یہ پیش رفت قفقاز کے خطے میں امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کی جا رہی ہے اور یہ خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل بساط میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔



