ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں 300 سے زائد امریکی فوجی زخمی، زمینی جنگ کے خدشات بڑھ گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں اب تک 300 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس تنازع کی شدت اور ممکنہ زمینی جنگ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران اب تک 303 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں جبکہ تقریباً 10 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ مارچ کے اوائل میں زخمیوں کی تعداد 140 بتائی گئی تھی، جو اب دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس تنازع میں اب تک کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی میتوں کی واپسی کے مواقع پر شرکت بھی کی، جو اس جنگ کے انسانی نقصان کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران کے خلاف زمینی حملہ کر سکتا ہے، جس سے جانی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے بارہا کہا ہے کہ زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں، تاہم خطے میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی نے ان خدشات کو تقویت دی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے اور موجودہ کارروائی منصوبے کے مطابق یا اس سے بھی تیز رفتار جاری ہے۔ ان کے مطابق اضافی فوجیوں کی تعیناتی صرف ہنگامی حالات کے لیے “متبادل آپشنز” فراہم کرنے کے لیے ہے۔

ادھر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں، جہاں امریکا نے ایران کو جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس عمل میں پاکستان سمیت دیگر ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب فوجی کارروائیاں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع ایک بڑے اور طویل المدتی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات خطے اور عالمی معیشت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button