
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک بھی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 15 دنوں میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر تقریباً 3,700 میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس سے خطے میں سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ متحدہ عرب امارات بنا، جبکہ اس کے بعد کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور اردن متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔ دوسری جانب عمان وہ ملک ہے جسے نسبتاً کم حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اس کی فضائی دفاعی نظام نے 294 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور تقریباً 1,600 ڈرون مار گرائے ہیں۔ حالیہ دنوں میں فجیرہ کے صنعتی علاقے میں حملوں کے بعد دھماکوں اور دھوئیں کے بڑے بادل بھی دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسی طرح بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بھی دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنائی دیں۔ بحرینی حکام کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے جنگ کے آغاز سے اب تک 125 میزائل اور 211 ڈرون تباہ کیے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے بھی حالیہ دنوں میں کئی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق صرف ایک دن میں 64 ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ متعدد بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
کویت کو بھی متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کویتی حکام کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ریڈار نظام کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
قطر نے بھی کئی حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مختلف مواقع پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ دوسری جانب عمان میں محدود حملے رپورٹ ہوئے، جن میں ایک صنعتی علاقے میں ڈرون گرنے سے دو افراد ہلاک اور چند زخمی ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتی ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور عالمی توانائی سپلائی دونوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔



