پاکستانتازہ ترین

"SMASH” ہائپرسونک میزائل کے ساتھ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں نئی بلندیوں پر

پاکستان نے اپنی دفاعی صنعت میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے جدید ہائپرسونک میزائل سماش
کو سعودی عرب میں منعقدہ بین الاقوامی دفاعی نمائش کے دوران عالمی مارکیٹ کے لیے پیش کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان ایسا پہلا مسلم ملک بن گیا ہے جس نے اینٹی شپ اور لینڈ اٹیک صلاحیتوں سے لیس ہائپرسونک میزائل برآمد کے لیے پیش کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق SMASH میزائل مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور اس کی رینج 380 کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے، جبکہ مختلف آپریشنل ضروریات کے مطابق اس کی متعدد رینج اور کنفیگریشنز بھی دستیاب ہیں۔ یہ میزائل جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور بحری اہداف کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہائپرسونک رفتار کی بدولت یہ میزائل جدید فضائی اور بحری دفاعی نظاموں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کی رفتار، کم ریڈار سگنیچر اور تیز ردِعمل کی صلاحیت اسے روایتی میزائل نظاموں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق SMASH کی تیاری پاکستان کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد دفاعی خود کفالت کے ساتھ ساتھ عالمی دفاعی منڈی میں اپنا مقام مضبوط کرنا ہے۔

یہ میزائل سعودی عرب میں ہونے والی نمائش کے دوران بین الاقوامی خریداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ دفاعی صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے متعدد ممالک جدید مگر نسبتاً کم لاگت دفاعی نظاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور اس تناظر میں پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی ایک پرکشش متبادل بن کر سامنے آ رہی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق SMASH میزائل کی برآمد کے لیے تمام پیشکشیں بین الاقوامی قوانین اور ذمہ دارانہ دفاعی تجارت کے اصولوں کے تحت کی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے اہم ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی پاور کے طور پر بھی متعارف کرائے گی۔

سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق ہائپرسونک میزائل کی عالمی مارکیٹ میں شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب روایتی دفاعی ساز و سامان سے آگے بڑھ کر جدید اور اسٹریٹجک سطح کی ٹیکنالوجی میں بھی مسابقت کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس پیش رفت کے اثرات خطے کی دفاعی حرکیات اور عالمی اسلحہ مارکیٹ پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button