
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے دیے گئے ایک حالیہ بیان کے بعد عالمی دفاعی اور اسٹریٹجک حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "ہمارے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو طیارہ بردار جہازوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور انہیں غرق کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔” عسکری ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اشارہ ایران کے ان انتہائی خفیہ اور مہلک بحری ہتھیاروں کی جانب ہے جو کسی بھی روایتی جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں سب سے نمایاں اور خطرناک ترین ہتھیار ‘ایرانی آبدوز نما خودکش ڈرون’ (UUV) ہے، جسے عام طور پر "شاہد-900” یا پروجیکٹ نصیر کے تحت "نذیر-1” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اسمارٹ تارپیڈوز کی وہ جدید کلاس ہے جو امریکی ڈیسٹرائرز (تباہ کن جہازوں) اور طیارہ بردار بیڑوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تصور کی جاتی ہے۔
اس مہلک ہتھیار کی تفصیلات، تکنیکی خصوصیات اور جنگی صلاحیتیں درج ذیل ہیں:
1. بغیر پائلٹ کا انڈر واٹر وہیکل (UUV) یہ ایک جدید ترین بغیر پائلٹ کی آبدوز نما گاڑی ہے، جسے ‘طویل فاصلے تک مار کرنے والے خودکش تارپیڈو’ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پانی کی سطح کے بالکل نیچے (Semi-submersible) یا مکمل گہرائی میں سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے روایتی ریڈارز یا جدید سونار (Sonar) سسٹمز کے لیے اس کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

2. ہوشربا تکنیکی خصوصیات اور تباہ کن صلاحیت عسکری نمائشوں اور فوجی مشقوں سے اخذ کردہ معلومات کے مطابق اس ڈرون کی طاقت حیران کن ہے:
- رینج: اس کا آپریشنل فاصلہ 500 سے 900 کلومیٹر تک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے ایرانی ساحلوں سے فائر کر کے آبنائے ہرمز یا بحیرہ عرب کے اسٹریٹجک مقامات پر موجود دشمن کے جہازوں کو بآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
- تباہ کن صلاحیت (Payload): یہ اپنے ساتھ 150 سے 300 کلوگرام تک انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد (TNT یا مرکب مواد) لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مقدار کسی بھی بڑے جنگی جہاز کے نچلے حصے (Hull) کے پرخچے اڑانے اور اس کے پروپلژن سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
- رفتار اور اسٹیلتھ: اس کی رفتار 10 سے 30 ناٹس تک ہوتی ہے۔ یہ ابتدا میں توانائی بچانے اور خاموشی سے ہدف کے قریب پہنچنے کے لیے سست روی سے سفر کرتا ہے، اور ہدف کے بالکل قریب پہنچ کر (Terminal Phase میں) اپنی رفتار انتہائی تیز کر لیتا ہے۔
3. جدید ترین نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم یہ ڈرون اپنے ہدف کو تلاش کرنے کے لیے ایک پیچیدہ ‘ہائبرڈ گائیڈنس سسٹم’ کا استعمال کرتا ہے:

- پانی کے اندر یہ ‘انرشیئل نیویگیشن سسٹم’ (INS) پر انحصار کرتا ہے۔
- راستہ درست کرنے کے لیے یہ ایک چھوٹا سا اینٹینا چند لمحوں کے لیے پانی کی سطح پر لاتا ہے اور GPS/GLONASS سے رہنمائی لیتا ہے۔
- حملے کے آخری مراحل میں یہ پیسو سونار (Passive Sonar) کا استعمال کرتا ہے جو بڑے بحری جہازوں کے انجن کی آواز کا تعاقب کرتا ہے۔ اگر یہ سطحِ آب کے قریب ہو تو یہ الیکٹرو-آپٹیکل کیمروں سے بھی ہدف کو لاک کر لیتا ہے۔
4. خاموش قاتل: پروپلژن سسٹم اسے ایک ‘خاموش قاتل’ بنانے کے لیے جدید لیتھیم آئن بیٹریوں سے چلنے والی الیکٹرک موٹرز کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے پانی کے اندر اس کی آواز (Acoustic Signature) نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اس کے پچھلے پروپیلرز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ پانی میں بلبلے (Cavitation) پیدا نہیں کرتے، جس سے دشمن کے آلات اسے ٹریک نہیں کر پاتے۔

5. امریکی جہازوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیوں؟ (‘Swarm’ حکمت عملی) اسے ‘غدیر’ کلاس آبدوزوں، تیز رفتار اسٹیلتھ کشتیوں یا عام تجارتی کنٹینرز سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو اس کی ‘Swarm Tactic’ (ایک ساتھ جھنڈ کی صورت میں حملہ) ہے۔ جب درجنوں خودکش ڈرونز ایک ساتھ کسی امریکی بحری بیڑے پر حملہ آور ہوں گے، تو امریکی دفاعی نظام ان سب کو روکنے میں ناکام ہو جائے گا۔
جہاں کروز میزائلوں کو امریکی ‘ایجیس’ (Aegis) یا ‘پھیلنگس’ (Phalanx) ڈیفنس سسٹم کے ذریعے فضا میں تباہ کیا جا سکتا ہے، وہیں یہ انڈر واٹر ڈرونز جہاز کے اس حصے (پانی کے نیچے) پر حملہ کرتے ہیں جو سب سے کمزور ہوتا ہے۔ پانی کے اندر ہونے والا ایک زوردار دھماکہ جہاز کو غرق کرنے یا اسے مکمل طور پر مفلوج (Mission Kill) کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، کیونکہ پانی کا دباؤ دھماکے کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
(عالمی منظرنامے میں اہمیت): مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور خلیج میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی کے پیشِ نظر، ایران کا یہ غیر متناسب (Asymmetric) بحری ہتھیار جنگ کے روایتی اصولوں کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔



