امریکاتازہ ترین

امریکی فوج میں خودکشی کے واقعات پر پینٹاگون کی رپورٹ، ذہنی دباؤ بڑی وجہ قرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج میں خودکشی کے واقعات ایک طویل عرصے سے تشویشناک رجحان کا حصہ رہے ہیں، تاہم 2024 میں ان میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں امریکی فوج میں خودکشی کے 471 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کم ہیں۔ اگرچہ اس کمی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ کمی ایک مستقل رجحان کی علامت ہے یا نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد 30 سال سے کم عمر کے مرد فوجی اہلکار تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فعال ڈیوٹی پر موجود فوجیوں میں 302 کیسز سامنے آئے، جبکہ ریزرو فورسز میں 64 اور نیشنل گارڈ میں 105 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ماہرین کے مطابق خودکشی کے ان واقعات کے پیچھے سب سے بڑی وجوہات ذہنی صحت کے مسائل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف متاثرہ اہلکار کسی نہ کسی ذہنی بیماری، جیسے ڈپریشن، بے چینی یا الکحل کے استعمال سے متعلق مسائل کا شکار تھے۔ اس کے علاوہ ایک تہائی اہلکاروں کو کام کے ماحول میں مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ تقریباً 45 فیصد افراد ذاتی یا خاندانی تعلقات میں مسائل سے دوچار تھے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2024 میں کمی آئی ہے، لیکن مجموعی طور پر 2011 سے اب تک خودکشی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے حکام نے تسلیم کیا کہ فوجی زندگی کا دباؤ، تعیناتی، اور ذاتی مسائل مل کر اہلکاروں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔

یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت اور فوجی قیادت نے حالیہ برسوں میں خودکشی کی روک تھام کو ترجیح دی ہے۔ مختلف پروگرامز کے تحت فوجیوں کو ذہنی معاونت فراہم کرنے، اسلحہ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی بڑھانے اور مدد حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں 2021 میں “برانڈن ایکٹ” بھی منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت فوجی اہلکار کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے مکمل رازداری کے ساتھ مدد طلب کر سکتے ہیں، تاکہ وہ بروقت ذہنی اور نفسیاتی معاونت حاصل کر سکیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ حالیہ کمی ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے، لیکن یہ مسئلہ اب بھی سنگین ہے اور اس کے حل کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانا نہ صرف انفرادی سطح پر اہم ہے بلکہ مجموعی دفاعی نظام کی کارکردگی کے لیے بھی ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا جاری اصلاحات اور معاونت کے اقدامات واقعی خودکشی کے واقعات میں مستقل کمی لا سکتے ہیں یا نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button