
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یروشلم/خلیج: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک اہم سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ آیا اسرائیل اور خلیجی ممالک کے پاس میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کافی تعداد موجود ہے یا نہیں، کیونکہ یہی عنصر جنگ کے دورانیے اور شدت کا تعین کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والا “ایرو” دفاعی نظام مسلسل متحرک ہے، اور شہری علاقوں میں اس کی آوازیں اب روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹرز کی کمی ہو سکتی ہے، جس پر اسرائیلی فوج نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
انٹرسیپٹرز کیوں اہم ہیں؟
ماہرین کے مطابق میزائل انٹرسیپٹرز شہری آبادی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد کم ہو جائے تو دفاعی نظام کمزور پڑ سکتا ہے، جس سے میزائل حملوں کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔
خفیہ معلومات اور غیر یقینی صورتحال
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس موجود انٹرسیپٹرز کی اصل تعداد ایک خفیہ معلومات ہوتی ہے، اس لیے درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم مسلسل حملوں کے باعث ان ذخائر پر دباؤ بڑھنا ایک فطری امر ہے۔
جنگ کے دورانیے پر اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر انٹرسیپٹرز کی کمی واقع ہوتی ہے تو یہ جنگ کے دورانیے اور حکمت عملی کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں ممالک کو یا تو اپنی دفاعی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی یا حملوں کی شدت کو کم کرنا پڑ سکتا ہے۔

خلیجی ممالک بھی دباؤ میں
یہ خدشات صرف اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ خلیجی ممالک بھی اسی طرح کے دفاعی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں کو میزائل حملوں سے بچانے کے لیے جدید دفاعی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگ میں صرف حملہ آور صلاحیت ہی نہیں بلکہ دفاعی وسائل کی دستیابی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی فریق کے پاس دفاعی وسائل کم ہو جائیں تو جنگ کا توازن تیزی سے بدل سکتا ہے۔
نتیجہ: خاموش مگر فیصلہ کن عنصر
مبصرین کا کہنا ہے کہ میزائل انٹرسیپٹرز کی دستیابی ایک “خاموش مگر فیصلہ کن” عنصر ہے، جو عوام کی حفاظت سے لے کر فوجی حکمت عملی تک ہر چیز پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو یہ مسئلہ مزید اہم ہو جائے گا، اور یہی عنصر طے کر سکتا ہے کہ کون سا فریق زیادہ دیر تک اپنے دفاع کو برقرار رکھ پاتا ہے۔



