تازہ ترینسعودی عرب

PMI رپورٹ جاری، سعودی معیشت میں سست روی کی تصدیق

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

سعودی عرب کی غیر تیل معیشت میں مارچ کے دوران نمایاں سست روی دیکھی گئی ہے، جہاں کاروباری سرگرمیاں تقریباً ساڑھے تین سال بعد پہلی بار سکڑاؤ کا شکار ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے کاروباری ماحول پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔

تازہ کاروباری سروے کے مطابق پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) مارچ میں کم ہو کر 48.8 پر آ گیا، جو فروری میں 56.1 تھا۔ معاشی اصول کے مطابق 50 سے کم ریڈنگ معاشی سرگرمیوں میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں دباؤ میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بڑی وجہ غیر یقینی صورتحال اور صارفین و کمپنیوں کا محتاط رویہ ہے۔ نئے آرڈرز میں نمایاں کمی آئی، جبکہ برآمدات میں بھی تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی۔ بعض کمپنیوں نے سرحد پار تجارت میں مکمل تعطل اور لاجسٹک مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد صورتحال نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث اشیاء کی ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کاروباری پیداوار اور نئے آرڈرز دونوں میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں طلب کمزور ہو رہی ہے، جبکہ کمپنیاں بھی محتاط انداز میں فیصلے کر رہی ہیں۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سست روی عارضی ہو سکتی ہے اور حالات بہتر ہونے پر معیشت دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود آئندہ 12 ماہ کے لیے کاروباری توقعات مکمل طور پر منفی نہیں ہوئیں۔ کئی کمپنیوں کو امید ہے کہ حکومتی اخراجات، انفراسٹرکچر منصوبے اور طویل المدتی طلب میں بہتری معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اب صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات معیشت، تجارت اور روزمرہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جو آنے والے مہینوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button