امریکاتازہ ترین

امریکہ کی درخواست مسترد، پولینڈ نے پیٹریاٹ میزائل سسٹم مشرق وسطیٰ بھیجنے سے انکار کر دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کی جانب سے اتحادی ممالک سے دفاعی تعاون کی اپیلوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم پولینڈ نے اپنی اہم دفاعی صلاحیت کو خطے میں منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو یورپ میں سیکیورٹی ترجیحات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پولینڈ کے وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو کسی دوسرے خطے میں بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق یہ نظام پولینڈ کی فضائی حدود اور نیٹو کے مشرقی محاذ کے دفاع کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے اسے کہیں اور منتقل کرنا ممکن نہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ نے پولینڈ سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے پیٹریاٹ میزائل سسٹمز میں سے ایک کو مشرق وسطیٰ منتقل کرے تاکہ وہاں بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم وارسا نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنی قومی اور علاقائی سیکیورٹی کو ترجیح دی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولینڈ کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک بھی اپنی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کی تقسیم میں محتاط ہو گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقی یورپ میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو کے مشرقی حصے، خاص طور پر روس کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر، پولینڈ اپنے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی درخواست کے باوجود اپنے میزائل سسٹم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب یہ پیش رفت اس وسیع تر مسئلے کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کو مختلف عالمی محاذوں پر بیک وقت دفاعی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں اسے مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر علاقوں میں اپنے اتحادیوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اتحادی ممالک اس طرح اپنے وسائل محدود رکھنے لگے تو امریکہ کے لیے مختلف خطوں میں دفاعی توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سیکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، جہاں ہر ملک اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے، جس کے اثرات بین الاقوامی دفاعی تعاون پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button