
واشنگٹن/تہران — امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے گزشتہ برس ہونے والے حملوں کے بعد اپنے بیلسٹک میزائل سے متعلق کئی مراکز کی مرمت اور بحالی تیزی سے شروع کر دی ہے، جبکہ بڑی ایٹمی تنصیبات پر کام محدود پیمانے پر ہی نظر آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فرق ایران کی قلیل المدتی ترجیحات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جن مقامات کو امریکا یا اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا، ان میں سے نصف سے زائد پر تعمیراتی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ بعض جگہوں پر مرمت حملوں کے فوراً بعد شروع ہو گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میزائل تیاری کو فوری طور پر بحال کرنا تہران کی ترجیح رہی۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق نطنز اور اصفہان میں تباہ شدہ عمارتوں پر نئی چھتیں نصب کی گئی ہیں، تاہم مغربی اور اسرائیلی حکام کو ایسے شواہد کم ملے ہیں کہ ایران ایٹمی ایندھن کی افزودگی یا ایٹمی وارہیڈ کی تیاری میں کوئی نمایاں پیش رفت کر رہا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈو، نطنز اور اصفہان کی مرکزی ایٹمی تنصیبات اب بھی عملی طور پر غیر فعال ہیں، اگرچہ کچھ مرمتی کام جاری ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی عسکری کارروائی ہوئی تو ایران کا ممکنہ جواب بیلسٹک میزائلوں کی صورت میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اثاثوں کی جانب ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ میزائل پروگرام کو مضبوط بنانا ایران کی قلیل المدتی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے “کامیاب” رہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو نمایاں نقصان پہنچا۔ امریکی حکام کے مطابق نشانے درست تھے اور کارروائی نے مطلوبہ نتائج دیے، جبکہ ناقدین کے اعتراضات کو سیاسی قرار دیا گیا۔
سفارتی سطح پر عمان میں ہونے والی بات چیت کے باوجود ایران نے یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے، تاہم افزودگی کی سطح اور طریقۂ کار پر بات چیت کی آمادگی ظاہر کی گئی۔ ماہرین کے نزدیک حالیہ تصاویر یہ پیغام دیتی ہیں کہ تہران فی الحال ایٹمی کے بجائے میزائل صلاحیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔



