
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان چین، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور تجارتی جہاز رانی بحال کرنے کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجیں۔ یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے باعث اس اہم سمندری راستے میں کشیدگی شدید ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ ممالک جو اس راستے سے گزرنے والی توانائی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں، انہیں امریکہ کے ساتھ مل کر اس راستے کو محفوظ بنانا چاہیے۔ انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو بھی بحری جہاز بھیج کر عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کشیدگی بڑھنے سے عالمی توانائی منڈی پر فوری اثر پڑتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران جنگ کے دوران متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد اس راستے میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ بحری مشن پر بھی غور کر رہا ہے۔ بعض ممالک پہلے ہی خلیج میں اپنے بحری جہاز تعینات کرنے یا تجارتی جہازوں کو فوجی تحفظ دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی طاقتیں مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی آپریشن شروع کرتی ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے، کیونکہ ایران اس راستے کو اپنی سکیورٹی اور سیاسی دباؤ کے اہم ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی حساس ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



