
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مختلف ممالک میں تیل اور گیس کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران سے جڑی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران نے ایک بار پھر حکومتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ صارفین کو مہنگائی سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کریں۔
رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا اور جرمنی ایسے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے تحت ان توانائی کمپنیوں پر "ونڈ فال ٹیکس” عائد کیا جا سکتا ہے جو جنگی حالات کے باعث غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔ اس طرح کے ٹیکس کا مقصد اضافی منافع کا کچھ حصہ عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام صارفین کو مہنگی گیس اور بجلی کا سامنا ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا اور بعض بڑی کمپنیوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کا منافع حاصل کیا۔ مثال کے طور پر ایک بڑی یورپی توانائی کمپنی نے مشرق وسطیٰ کے تیل کی تجارت سے بھاری منافع کمایا، جس نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے ٹیکسز زیر غور آئے ہوں۔ اس سے قبل 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد بھی یورپ، برطانیہ اور بھارت سمیت کئی ممالک نے گیس اور توانائی کمپنیوں کے غیر معمولی منافع پر اضافی ٹیکس عائد کیے تھے۔ ان اقدامات سے بعض حکومتوں کو اربوں یورو کی آمدنی حاصل ہوئی، جسے عوامی ریلیف پروگرامز میں استعمال کیا گیا۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے ٹیکسز ہمیشہ متوقع نتائج نہیں دیتے۔ بعض صورتوں میں کمپنیوں نے سرمایہ کاری کم کر دی یا پیداوار پر اثر پڑا، جس سے توانائی کی سپلائی مزید متاثر ہوئی۔ اسی لیے اس بار زیادہ محتاط اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ بحران ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اس میں جغرافیائی سیاست، توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے کسی بھی پالیسی کا اثر صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیا جائے گا۔
ادھر حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ ایک طرف عوام کو ریلیف دیں اور دوسری جانب توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو متاثر نہ ہونے دیں۔ اگر ٹیکس زیادہ سخت ہوئے تو کمپنیاں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر سکتی ہیں، جس سے مستقبل میں سپلائی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی اب پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہو چکی ہے، جہاں ہر فیصلہ عالمی معیشت، صارفین اور توانائی کی سیکیورٹی پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔



