ایرانتازہ ترین

ایران پر ممکنہ کارروائی؟ کانگریس میں جنگی اختیارات کی ووٹنگ، کیا ٹرمپ کو ملے گی سبز جھنڈی؟

واشنگٹن:(تازہ حالات رپورٹ )امریکا میں ایران کے حوالے سے بڑھتی کشیدگی کے دوران کانگریس میں جنگی اختیارات ( سے متعلق قرارداد پر بحث نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر کوئی غیر متوقع پیش رفت نہ ہوئی تو کانگریس عملاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے کھلی چھوٹ دے سکتی ہے۔

جنگی اختیارات کی قرارداد کیا ہے؟

امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم صدر بطور کمانڈر انچیف ہنگامی حالات میں محدود فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد یہی تھا کہ صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر طویل جنگ میں شامل ہونے سے روکا جائے۔

ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ آئندہ ہفتے ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی پر کانگریس کی واضح منظوری کو لازمی بنانا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ “امریکی عوام کو ایک اور مشرقِ وسطیٰ جنگ میں جھونکنے سے پہلے منتخب نمائندوں کی رائے ضروری ہے۔”

ریپبلکن قیادت کا مؤقف

ریپبلکن قیادت کے اشارے بتاتے ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی مکمل آزادی دینا چاہتے ہیں۔ بعض قانون سازوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صدر کے ہاتھ باندھنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قرارداد مسترد ہو جاتی ہے تو یہ صدر کے لیے ایک سیاسی کامیابی تصور کی جائے گی، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ کانگریس نے بالواسطہ طور پر ممکنہ فوجی اقدام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

پس منظر: ایران اور امریکا کے تعلقات

ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل سرگرمیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے تناظر میں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی اور بحری طاقت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی موجودہ بحث اس بڑے سوال کے گرد گھوم رہی ہے:
کیا امریکا ایک بار پھر خطے میں وسیع فوجی مہم جوئی کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

سیاسی اور عوامی ردعمل

امریکی عوام میں جنگی تھکن (war fatigue) کا عنصر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کے بعد بہت سے ووٹرز نئی فوجی مداخلت کے حق میں نہیں۔ دوسری جانب کچھ حلقے ایران کے خلاف سخت کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

آگے کیا؟

اگر وار پاورز قرارداد ناکام ہوتی ہے تو صدر کو ایران کے خلاف محدود یا وسیع فوجی کارروائی کے لیے نسبتاً کھلا میدان مل سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ اب بھی وائٹ ہاؤس کی سیاسی اور عسکری حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند دن نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ کانگریس کا رویہ اس بحران کی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button