امریکاتازہ ترین

امریکہ اور اسرائیل سے محاذ آرائی سے پہلے تیاری ضروری، حاکان فیدان کا اہم بیان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

انقرہ — ترکی کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ملک کے لیے بڑی طاقتوں کے ساتھ تنازع میں جانے سے پہلے جدید دفاعی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ریاست نے سائبر اور انٹیلی جنس کے میدانوں میں اپنی صلاحیتیں بہتر نہیں بنائیں تو اسے امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔

ترک نشریاتی ادارے TRT Haber کو دیے گئے انٹرویو میں فیدان نے کہا کہ جدید جنگ صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس میں سائبر انٹیلی جنس، سگنل انٹیلی جنس، الیکٹرانک انٹیلی جنس، پیشگی انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ تصاویر جیسے جدید نظام فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک کے پاس ان شعبوں میں مضبوط صلاحیت نہ ہو تو اسے بڑی طاقتوں کے ساتھ محض زبانی محاذ آرائی بھی نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام، ریڈار نیٹ ورک اور الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول اگر دشمن کسی ملک کے مواصلاتی نظام یا موبائل فونز تک رسائی حاصل کر لے تو وہ قیادت کے مقام کا سراغ لگا سکتا ہے، لیکن فضائی حملہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب دشمن طیارے یا ڈرون طویل وقت تک اس ملک کی فضائی حدود میں موجود رہ سکیں۔

حاکان فیدان نے کہا کہ حالیہ علاقائی تنازعات سے ترکی نے بھی اہم اسباق حاصل کیے ہیں۔ ان کے مطابق یوکرین جنگ اور حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی لڑائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں انٹیلی جنس، انسدادِ جاسوسی، دفاعی کارروائیاں اور دفاعی صنعت مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ترکی کو اپنی دفاعی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق یہی حکمتِ عملی کسی بھی ملک کو مستقبل کے ممکنہ تنازعات میں مؤثر طریقے سے اپنے مفادات اور سلامتی کا تحفظ کرنے کے قابل بناتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button