ایرانتازہ ترین

ایران–امریکا مذاکرات، اسرائیلی خدشات اور خطے میں عسکری تیاریوں میں تیزی

تہران / واشنگٹن / یروشلم:
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا خواہاں ہے اور کسی ممکنہ ڈیل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہش موجود ہے، تاہم اپنے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق امریکی سفارتی شخصیات اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کوشنر کی خطے میں متوقع آمد کے بارے میں ایران کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا، جسے سفارتی رابطوں میں سرگرمی کی ایک علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس دوران اسرائیلی میڈیا میں امریکا–ایران ممکنہ معاہدے پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ عبرانی اخبار معاریف اور یدیعوت احرونوت کے تجزیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی ڈیل اسرائیل کے لیے جنگ یا براہِ راست حملے سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ایران کو سفارتی اور معاشی مہلت ملنے کا امکان ہے۔

دی یروشلم پوسٹ کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ مغرب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتکاری میں مصروف ہے، جبکہ اسرائیل کو اب اپنی بقا کی جنگ خود لڑنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اخبار کے مطابق اسرائیلی قیادت اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ سفارتی عمل اس کے اسٹریٹجک خدشات دور نہیں کر پا رہا۔

ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے مجموعی منصوبے کا تقریباً 80 فیصد حصہ مکمل کر لیا ہے۔ سابق موساد سربراہ ایلان پومرپانز کے مطابق امریکا اور بعض مغربی اتحادیوں میں اسرائیل کی سیاسی و سفارتی حمایت بتدریج کمزور پڑ رہی ہے، جس کے باعث اسرائیل کو اپنی عسکری حکمتِ عملی خود مکمل کرنا ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی میں تاخیر ہوئی یا حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی آئی تو اسرائیل کو شروع کیے گئے اقدامات ہر صورت پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہوں گے۔

ادھر اسرائیلی چینل C14 نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکی حمایت دستیاب نہ بھی ہو تو اسرائیل ایران پر یکطرفہ حملہ کرنے کی صلاحیت اور تیاری رکھتا ہے۔

عسکری محاذ پر ایران نے ایک اور نئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میزائل ٹیسٹ سے قبل نوٹم (NOTAM) جاری کر کے متعلقہ فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے زیرِ زمین اڈوں، غاروں اور جنگی جہازوں کے ہینگرز کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جنہیں دفاعی تیاریوں کا واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران–امریکا ممکنہ مذاکرات، اسرائیلی خدشات اور خطے میں بڑھتی عسکری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سفارتکاری اور جنگ کے درمیان فاصلہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button