
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر دی ہے، جس کا مقصد ان کے بقول “ایرانی نظام سے لاحق فوری خطرات کا خاتمہ” ہے۔ ہفتے کے روز اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے “ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی آپریشن” کا آغاز کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے متعدد سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کر دے گا، اس کی بحری قوت کو غیر مؤثر بنا دے گا اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کو کمزور کرے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔”
ایران کا ردِعمل
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے “سخت اور کچل دینے والے” ردعمل کا وعدہ کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے بارہا جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور امریکی انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹس میں بھی ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کے واضح شواہد کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات
واشنگٹن سے رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائی کا ایک مقصد ایرانی قیادت کو کمزور کرنا بھی بتایا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کا مرکز وہ علاقے تھے جہاں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موجودگی کا امکان تھا۔ تاہم خبر رساں اداروں کے مطابق خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض حلقے ایرانی نظام کی قیادت کو ہدف بنانے کو حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، مگر اس کے بعد کی صورتحال غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ کچھ ممالک نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی بڑے اقدام سے پہلے “اگلے دن کی حکمتِ عملی” واضح ہونی چاہیے، کیونکہ قیادت کی تبدیلی لازمی طور پر مطلوبہ سیاسی نتیجہ نہیں دیتی۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی
اسرائیل اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایران جوابی کارروائی کرتا ہے تو تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
فی الحال صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے، تاہم زمینی حقائق آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔



