ایرانتازہ ترینمشرق وسطی

ایران جنگ کے بعد پہلا کھلا رابطہ: پیوٹن اور ایرانی صدر پزشکیان کی گفتگو، انٹیلی جنس تعاون کی رپورٹس

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پہلی مرتبہ ایک کھلی اور باضابطہ ٹیلی فون گفتگو سامنے آئی ہے۔ عرب اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، جاری کشیدگی اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سیکیورٹی تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے تفصیلات عوامی طور پر واضح نہیں کی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور ایران کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں دفاعی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد ماسکو نے مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ روابط کو وسعت دینے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، جبکہ ایران بھی مغربی پابندیوں کے دباؤ کے باعث روس اور چین کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیوٹن اور پزشکیان کے درمیان یہ رابطہ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک موجودہ علاقائی بحران میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس تعاون کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مزید سرکاری معلومات سامنے آنا ضروری ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطے خطے میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button